Breaking

Showing posts with label اردو شاعری. Show all posts
Showing posts with label اردو شاعری. Show all posts

Wednesday, 9 May 2012

May 09, 2012
 
**¤غزل¤*
روتےہیںجن کی یاد میں آنسوبہابہا کر .
وہ سامنےجارہےہیں نظریںجھکاجھکا کر.
ہم ان سےمحبت اور وہ ہم سےنفرت کرتےہیں.
پھربھی ہم دعائیں کرتےہیںان کےلیے ہاتھ اٹھااٹھاکر.
وہ آتےتھےجب بھی میرے غریب خانے پر.
کرتاتھامیںروشنی اپنےدل کوجلاجلا کر..
اب تووہ مجھ پر سایہ بھی نہیںپڑنے دیتا.
کرتاتھاجوچھاؤں مجھ پہ زلفیںگرا گراکر..
خداکےلیےایک بار توملنےآجاؤکہ.
تھک گیاہوںمیں اپنےگھرکو سجاسجاکر..

Friday, 27 January 2012

January 27, 2012

رُوٹھے ہوئے یاروں سے میرا ذکر نہ کرنا

رُوٹھے ہوئے یاروں سے میرا ذکر نہ کرنا
بے فیض بہاروں سے میرا ذکر نہ کرنا

جن رہگذروں میں میرے ساتھ تھے تم بھی
... اُن راہ گذروں سے میرا ذکر نہ کرنا

موجوں کا تلاطم کہیں آواز نہ سُن لے
خاموش کناروں سے میرا ذکر نہ کرنا

پھولوں کی نزاکت کو کہیں ٹھیس نہ پہنچے
حسرت زدہ خاروں سے میرا ذکر نہ کرنا!
January 27, 2012

وہ مجھ سے روٹھ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے

وہ مجھ سے روٹھ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے
میرا دل ٹوٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے

جنہیں ہر دم نگاہیں ہر جگہ پر دیکھنا چاہیں
وہ ہی نظر نہ آئیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے

کسی کی جستجو میں دور تک جاتی ہوئی نظر
پلٹ کر لوٹ آئے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے

ہم تمہاری ہمراہی میں جن راستوں سے گزرے ہیں
ان راستوں پہ تنہا جائیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے

ہماری دوستی اور ہماری چاہتوں کا آئینہ
وہ ہی نہ دیکھ پائیں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے

کسی کی نیند میں ٹھہرا حسیں خوابوں کا سلسلہ
اچانک ٹوٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے

مسلسل کام کرنے کی میری عادت پرانی ہے
تسلسل ٹوٹ جائے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے

Saturday, 19 March 2011

March 19, 2011

من انگن میں شہر بسا ہے،شہرمیں اک دریا بہتا ہے

من انگن میں شہر بسا ہے،شہرمیں اک دریا بہتا ہے
جس میں چاند شتارے درپن،کبھی نہ ٹوٹنے والے بندھن
کہیں نہ بھولنے والی یادیں،ٹوٹی پھوٹی کچھہ فریادیں
روشن دن اور جھلمل راتیں
لفظ ادھورے،پوری باتیں
لہروں پر اُمڈتےجزبے بہتے جایں
کوی کہانی کہتے جایں
ہرے بھرے پیڑوں پر شاخیں سایوں کی زنجیر بنایں
پون سندیسے لیے ہوے
نیےموسم کے خوشحال پرندے
پلکوں پر پھیلے رنگوں سے انکھوں میں تصویر بناٰیں
دریا میں افلاک نہایں
اندر کے سب بھید کنارے کھلتے جایں
من انگن میں شہر بسا ہے
شہر میں اک دریا بہتا ہے
دریا کی لہروںمیں رستے
رستوں میں ان دیکھے سپنے کھلے ہوے ہیں
خواب دھنک خوشبو اور چہرے ملے ہوے ہیں
تیز ہوا میں دیپ سمے کے جلے ہوے ہیں
لیکن شہر کے دروازےپر
بے خوابی کے دُکھہسُکھہ اوڑھے
جانے کس کی اس میں انکھیں
نیندوں کا پہرا دیتی ہیں